Uncategorized

موت کے منہ میں جاتی ہوئی لڑکا کا ایسا پیغام کہ ہر سننے والا پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا

ہولی بچر ایک 27 سالہ لڑکی ہے جو اب اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہے لیکن اسنے مرتے مرتے موت کے بارے میں ایسے الفاظ کہے کہ پوری دنیا چیخ اٹھی. یہ لڑکی کونسے خطرناک مرض میں مبتلاء تھی اور اسنے مرنے سے چند لمحے پہلے موت کے بارے میں کیا لکھا؟ تفصیل پڑھ کر آپ بھی زارو قطار رو پڑے گیں.

ہولی بچر آسٹریلیا میں رہنے والی خوش اخلاق لڑکی تھی جو حال ہی میں (Ewing Sarcoma) نامی مرض میں متبلا ہو کر جو کہ کینسر کی ایک قسم ہے اس جہاں کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ گئی مگر اسکی باتیں اور موت کا منظر ہمیشہ کے لیے اس دنیا کے لوگ یاد رکھیں گیں.

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی یہ 27 سالہ نوجوان لڑکی، ہولی بچر، کو زندگی کا سب سے بڑا دھچکا تب لگا جب ڈاکٹروں نے اسکے جسم میں کینسر جیسا خطرناک مرض پایا اور اسے آگاہ کیا کہ اب اسکے زندہ رہنے کے لیے چند ہی ہفتے ہیں. ہولی (Ewing Sarcoma) نامی مرض میں مبتلاء تھی جو کہ کینسر کی ایک قسم ہے. یہ کینسر زیادہ تر نوجوانوں کو ہوتا ہے اور انکی ہڈیوں میں پایا جاتا ہے.

مرنے سے ایک روز قبل بدقسمت لڑکی ہولی بچر نے اپنے تمام گھر والوں کو اپنے پاس اکٹھا کیا اور ان سے کہا کہ یہ دنیا والوں کو فیس بک کے زریعے ایک آخری پیغام دینا چاہتی ہے. ہولی نے اپنے پیغام میں کیا لکھا، آئیں پڑھتے ہیں:

“دن گزرتے رہتے ہیں،اور ہم ہر آگے آنے والے دن کی پلاننگ کرتے ہیں. لیکن جب انسان کو پتا چلتا ہے کہ یہ اسکا آخری دن ہے تو اس سے گہرا صدمہ اور کوئی نہیں ہو سکتا. دوسری گھریلو لڑکیوں کی طرح میں نے بھی ہمیشہ سوچا کہ میں ایک دن شادی کرونگی، میرا بھی خاوند ہوگا، میرے بھی بچے ہونگے جنکو میں اپنی گود میں لیکر پیار کرونگی اور انکی اچھی پرورش کرونگی، میرا بھی ایک خوشخال گھرانا ہوگا، اور میں بھی ایک دن اپنے دادا دادی کی طرح بوڑھی ہوں گی. میں نے اپنے مستقبل کے بارے میں بہت کچھ سوچا ہوا تھا، لیکن اب میں بلکل بے بس ہوں اور زندگی کی آخری سانسیں لے رہی ہوں اور مجھے اس چیز کا بہت ہی زیادہ دکھ ہے.”

27 سالہ ہولی نے مزید کہا: “یہ تو میری جوانی کی عمر ہے. میں اس دنیا سے نہیں جانا چاہتی، میں اور جینا چاہتی ہیں، زندگی کی بہاریں دیکھنا چاہتی ہوں، اپنوں کے ساتھ مزید وقت گزارنا چاہتی ہوں، لیکن میں کیا کروں؟ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے.”

پیسہ اور عیاشیوں کے بارے میں ذکر کرتے هوئے ہولی نے کہا: “میرے پاس پیسہ بھی ہے لیکن جب آپ زندگی کی آخری دھڑکن پر ہوں تو یہ کمایا ہوا پیسہ آپکے ذرا کام نہیں آتا. آپکے پاس چاہے جتنا مرضی پیسہ اور آپ جتنی مرضی مہنگی چیز خرید لیں لیکن جب موت قریب ہو تو آپ کبھی بھی مزہ نہیں کر سکیں گے. بلکہ آپ یہی سوچیں گیں کہ کیا ضرورت ہے فلاں چیز خریدنے یا پھر فلاں جگہ پیسے خرچ کرنے کی جب میں نے مر ہی جانا ہے اور ان میں سے کوئی بھی چیز میرے کام نہیں آنی.”

“میں ہر گزرتے منٹ کے ساتھ اپنا آپ ختم هوئے محسوس کر رہی ہوں اور ایسا لگ رہا ہے جیسا کہ میں موت کے بہت ہی قریب آچکی ہوں. یہ سب کچھ میری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے لیکن میں بے بس ہوں. کاش میں ایک سالہ ہی اور زندہ رہ جاؤں، کاش میں ایک سالگرہ اور منا لوں، کاش میں اپنے دوستوں کے ساتھ کچھ سال اور ہلہ گلہ کر لوں. صرف چند سال اور. مگر مجھے پتا ہے کہ ایسا نہیں ہونے والا اور یہی میرا آخری دن ہے.”

ہولی بچر نے تمام لوگوں کو نصیحت کرتے هوئے کہا کہ قدرت نے آپکو جیسا بھی جسم عطا کیا ہے چاہے چھوٹا ہے، بڑا ہے، یا موٹا ہے، آپکو شکرگزار ہونا چاہیے. اپنی زندگی کی قدر کریں، اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں اور ہمیشہ خوش رہیں.

ہولی نے اپنے پیغام کا اختتام کرتے هوئے کہہ: “اپنی زندگی مایوسی میں مت گزاریں. اگر آپکے پاس کم پیسے ہیں اور فلاں کے پاس زیادہ دولت ہے تو اسکی دولت میں رشک کرنے کے بجائے اپنی کم دولت میں خوشی تلاش کریں. اپنے گھر والوں سے محبت سے پیش آئیں اور اپنے چاہنے والوں کو ہمیشہ پیار بھری نظروں سے دیکھیں کیا پتا آپکا یہ زندگی کا آخری دن ہو.”

قدرت نے انسان کو تقدیر بدلنے کی طاقت دی ہے لیکن موت وہ واحد چیز ہے جسکو کوئی بھی نہیں ٹال سکتا. محنت کریں اور کوشش یہ کریں کہ وقت برباد مت کریں کیونکہ انسان کے پاس وقت بہت کم ہے. یہ ایک موت کے منہ میں جاتی ہوئی لڑکی کی آپ لوگوں کو نصیحت ہے، آپ اس پر عمل کریں یا نہ کریں یہ آپکی مرضی ہے، میں آپ سے ناراض نہیں ہوں گی.”

ہولی بچر اپنا یہ خط لکھنے کے بعد دنیا سے رخصت ہو گئی اور لاکھوں لوگوں کے دل غم زدہ کر گئی. ہولی کا فیس بک پر موجود یہ آخری خط اب تک لاکھوں لوگ دیکھ چکے ہیں اور لاکھوں لوگوں نے اس پیغام کو شئیر کیا ہے. ہولی بچر کے جنازے میں کافی لوگوں نے شرکت کی اور ہر کسی کی آنکھ نم تھی اور دل خون کے آنسو رو رہا تھا

موت کے منہ میں جاتی ہوئی لڑکا کا ایسا پیغام کہ ہر سننے والا پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top